تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ریاست کو ماں کہتے ہیں کیونکہ ماں کا دل سمندر سے گہرا اور آسمانوں سے زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ ماں اولاد سے نفرت نہیں کر سکتی، ماں پیار ہی پیار ہے، غلطیاں معاف بھی کرتی ہے اور غلطیوں کے باوجود سینے سے بھی لگاتی ہے۔

ماں بلکتے بچے کو دیکھ کر تڑپ جاتی ہے تو تکلیف میں دیکھ کر ایک پاؤں کھڑی ہو جاتی ہے۔ ریاست کو ماں سے اس لیے تشبیہ دی جاتی ہے کہ ریاست گندے، میلے، روتے بسورتے بچوں کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔

ریاست مجموعہ ہے ہرادارے کا۔۔۔ عدالت، پارلیمان، فوج اور انتظامیہ سب مل کر ریاست تشکیل دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں ریاست سے مراد قطعی الگ لی جاتی ہے۔ چلیں جو بھی ہوں، جتنے بھی مقتدر ہوں، اگر خود کو ریاست کہلواتے ہیں تو ماں بن جانے میں کیا دِقت ہے۔

جناب! آپ سے عرض ہے کہ یہ روتے، چیختے، چلاتے بچے آپ کے ہی ہیں۔ منظور پشتین ہو یا محسن داوڑ،علی وزیر ہو یا عمار رشید، عوامی ورکرز تحریک ہو یا پشتون تحفظ تحریک، یہ سب تحریکیں ریاست یعنی ماں کی توجہ کی طالب ہیں۔

احتجاج کرتے، آئین کی بات کرتے یہ سب نوجوان اور کچھ نہیں بس آئین کے اندر دیے حقوق ہی تو مانگ رہے ہیں۔

عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم

شہباز شریف کی ’ٹوپیاں‘

خوابوں کی لُوٹ سیل

مشتری ہوشیار باش!

اچھا سر سوری!

جناب! یہ دیکھ لیجیے کہ اُن کی مانگیں کیا ہیں، ان کا مدعا کیا ہے؟ کوئی کچی آبادیوں کے حقوق مانگ رہا ہے تو کوئی جنگ زدہ علاقے میں امن کے بعد بچ جانے والوں کی پُروقار زندگی۔

پشتون تحفظ تحریک کا لب و لہجہ تلخ ہے، آپ اس کو ناگوار کہہ سکتے ہیں لیکن جناب! جب آئین توڑنے والوں کو ٹی وی پر کوریج ملتی ہو اور عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں محسن داوڑ اور علی وزیر کا ٹی وی پر بلیک آوٹ کیا جا تا ہو۔۔۔ تو یہ نوجوان ناراض نہ ہوں گے تو اور کیا ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@BILALFQI, @AIMAMK, @SALEEMISUNDUS Image caption اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین فروری کو پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے (فائل فوٹو)

جناب! ان کی آوازیں بلند ہیں لیکن آئین کے خلاف نہیں، ان کے لہجے تلخ ہیں لیکن نفرت زدہ نہیں، یہ آئین سے جُڑے ہیں تو ہم غداری کے فتوے لگا کر انھیں الگ کرنے کی بات کیوں کر رہے ہیں؟

یہ پڑھے لکھے نوجوان نہ تو آزادی مانگ رہے ہیں اور نہ ہی ریاست سے بے راہ رو ہیں۔۔۔ ان کے ہاتھوں میں قانون کی کتاب ہے اور زباں پر ریاست کی توجہ کی آواز۔۔۔

جناب! ملک کی اکثریتی آبادی نوجوان ہے، اُنھیں تعلیم، صحت اور برابری کے حقوق چاہییں۔ جدید دنیا میں انھیں جمہوریت اور مزید جمہوریت چاہیے، اُنھیں فرض کی ادائیگی سے پہلے حق چاہیے۔ دنیا بھر میں نوجوان سیاسی اور معاشی حقوق کے لیے متحرک ہیں، ہانگ کانگ ہو یا بیروت، انڈیا ہو یا پاکستان، عراق ہو یا ایران۔۔۔ نوجوان سڑکوں پر نظر آر ہے ہیں۔

پاکستان میں بھی طلبا تحریک کی صورت جمع ہیں۔ ان کا بلیک آؤٹ کر کے آپ نے دیکھ لیا پھر بھی انھیں ملک بھر سے حمایت مل رہی ہے۔

ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔۔۔ اب بھی وقت ہے، پارلیمان میں منتخب نمائندوں کے ذریعے ان سے بات چیت کیجیے۔ چیخوں میں بدلتی آوازوں کو سنیے۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ شور بڑھ جائے۔ انھیں دھتکاریے مت۔۔۔۔ سینے سے لگائیے، آپ ماں بنیے یہ اچھے بچے بن جائیں گے۔