تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں شریعت اور شاستر کو برابری کا درجہ دیا گیا

ایک بار مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے وزیر خارجہ فقیر عزیز الدین سے کہا 'رب چاہتا ہے کہ میں ہر مذہب کو ایک نظر سے دیکھوں اس لیے رب نے مجھے صرف ایک آنکھ ہی دی ہے'

فقیر عزیز الدین اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اس بات چیت کا ذکر کرتار سنگھ دوگل کی کتاب ' رنجیت سنگھ ، دی لاسٹ ٹو لے آرم' (Maharaja Ranjit Singh: The Last to Lay Arms)میں کیا گیا ہے۔

'فقیر عزیز الدین کی طرح کئی اور مسلمان مہاراجہ رنجیت کے دربار میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے جنھیں ان کے مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کی وجہ سے ان عہدوں پر فائز کیا گیا تھا۔'

مہاراجہ رنجیت خود ایک پکے سکھ تھے اور ان کا عقیدہ گروہ گرنتھ صاحب پر تھا۔ کرتار سنگھ دوگل کے مطابق جنگ کے میدان میں بھی گرو گرنتھ کو ایک ہاتھی پر لاد کر لے جایا جاتا تھا۔ اس کے باوجود مہاراجہ رنجیت سنگھ کا رحجان کسی ایک مذہب کی طرف نہیں دیکھا گیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی شخصیت کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے بی بی سی کی طرف سے تاریخ دانوں سے بات چیت کی گئی۔ آج ان کے یوم پیدائش کے موقع پر پیش ہے یہ رپورٹ۔

یہ بھی پڑھیئے:

غیر شادی شدہ خواتین اور کرائے کے مکان

تیز ترین سپر کمپیوٹر: امریکہ پہلے، چین تیسرے نمبر پر

اقبال اور ایما کا تعلق، عشق یا سادگی کی انتہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں بڑی تعداد میں مذہبی وظائف کا اجرا کیا گیا گرونانک کے فلسفے پر بنائی گئی ریاست

پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ سے ریٹائر ہونے والی تاریخ دان پروفیسر اندو بانگا سے بی بی سی نے مذہبی برابری اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بارے میں بات چیت کی۔

پروفیسر اندو بانگا نے بتایا:' بھارت میں سیکولرزم کی تعریف تمام مذاہب کا احترام ہے۔ بھارت کی تاریخ میں سیکولرزم کی بہترین مثال مہاراجہ رنجیت سنگھ ہیں۔'

'وہ خود ایک پکے سکھ تھے لیکن انھوں نے اپنی حکومت، فوج میں اور اپنے رویے میں مذہب کو کبھی روکاوٹ نہیں بننے دیا تھا۔ مہاراجہ رنجبت سنگھ کی حکومت باباگرونانک کے فلسفے پر چلائی جاتی تھی۔ بابا گرونانک کے فلسفے کا سب سے اہم جز سماجی مساوات اور مذہبی آزادی تھا۔ سماجی مساوات کا اثر رنجیت سنگھ کی حکومت اور ان کی فوج میں صاف دیکھا جا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں لاہور قلعے میں اس پویلین کا اضافہ کیا گیا ہندو مسلمان افسر

بات چیت میں اندو بانگا نے کئی ہندو اور مسلمان افسروں کے نام بتائے۔ انھوں نے بتایا کہ رنجیت سنگھ کے دربار میں ہندو، مسلمان افسر بھی تھے۔ مہاراجہ رنجیت کے دربار میں مختلف اوقات میں تقریباً ساٹھ یورپی لوگوں نے بھی اہم ذمہ داریاں نبھائی تھی۔

اندو بانگا نے بتایا کہ ہندوؤں میں دیوان محکم چند اور مصل دیوان چند فوج میں جرنیل تھے۔ دیوان بھوانی داس اور دینا ناتھ حساب کتاب دیکھتے تھے۔ مصر بیلی رام خزانے سےمتلعق کام پر مامور تھے۔

مسلمان میں خاص نام عزیز الدین، نور الدین، امام الدین اور ان کی اولادیں ہیں جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت میں اعلی عہدوں پر فائز رہے ۔ جالندھر اور دوابا کے گورنر محی الدین، جنرل سلطان محمود، اور کئی اور مسلمان رنجیت کے دور میں اعلی عہدوں پر فائز تھے۔

کرتار سنگھ دوگل اپنی کتاب 'رنجیت سنگھ، دی لاسٹ ٹو لے آرمز' میں لکھتے ہیں کہ فقیر امام الدین کو امرتسر کے گوبند گڑھ قلعے اور اس کے اردگرد کےعلاقوں کی ذمہ داری دی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی امام الدین امرتسر میں اسلحہ کے ذخیرے اور شاہی اصطبل کے بھی انچارج تھے۔ کئی جنگی مہموں پر امام الدین کو بھیجا گیا تھا۔

امرتسر جیسے سکھ مذہب سے جڑے سے اہم شہر کے اہم قلعے کی ذمہ داری دے کر مہاراجہ نے واضح کر دیا تھا کہ وہ مذہب کے حوالے کوئی فرق روا نہیں رکھتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption مہاراجہ رنجیت سنگھ کی تصویر شریعت اور شاستر برابر

اندو بانگا نے بتایا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے نظام انصاف میں شریعت اور شاستر دونوں کا برابری کا درجہ حاصل تھا۔ اگر کسی مسلمان کا مقدمہ ہوتا تو اس کے ساتھ شریعت کی روشنی میں فیصلہ ہوتا جب کہ ہندوؤں کے معاملات میں شاستر کا استعمال ہوتا تھا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کی جائیداد سے متعلق تمام فیصلے شریعت کے حساب سے کیے جاتے تھے۔ کرتار سنگھ دوگل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:'مہاراجہ جب حکومت میں آئے تو سکھ اکال تخت صاحب پر اکٹھا ہو کر فیصلے کرتے تھے جنھیں گرمت کہا جاتا تھا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے سروت خالصہ کی جگہ وزیروں کی کابینہ کو دی اور تمام فیصلے ان کی جانب سے لیے جانے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption لدھیانہ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کا جنگی میوزئم مذہبی وظائف کا نیا ریکارڈ

اندو بانگا کے مطابق مہاراجہ رنجیت کے مذہبی مساوات کے اونچے معیار کا مختلف مذاہب کے وظائف سے پتا چلتا ہے جو بھارتی روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مغلوں کے وقت بھی مذہبی وظائف دیے جاتے تھے۔ اس سے پہلے راجہ ہشوردن کے وقت بھی ایسے مذہبی وظائف دیئے جاتے تھے لیکن رنجیت سنگھ کے دور میں جو کچھ ہوا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اپنی حکومت میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی جتنے پرانے وظائف مقرر تھے انھیں بحال کیا گیا اور اس کے علاوہ رنجیت سنگھ نے اپنے طرف سے نئے وظائف جاری کیے۔

اندو بانگا مانتی ہیں کہ رنجیت سنگھ کے دور میں مالیہ کا جو حصہ مذہبی وظائف کی مد میں دیا جاتا تھا وہ مغل بادشاہ اکبر کی طرف سے دیئے جانے والے وظائف سے بھی زیادہ تھا۔ رنجیت سنگھ نے مندروں کو جاگیریں دی جیسے جوالا دیوی کا مندر کا چھتر مہاراجہ رنجیت کے والد مہا سنگھ کی طرف سے لگایا گیا تھا اور بعد میں رنجیت سنگھ نے بھی مندروں کو اور وظائف دیئے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی خانگاہوں، پیروں کی درگاہوں اور صوفیوں کو بھی وظیفے دیئے گئے۔ اگر مہاراجہ سفر پر جایا کرتے تھے تو اس علاقے کے سب سے اہم مذہبی مقام ضرور جایا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو اعلی عہدوں پر فائز کیا گیا دشمنوں کا احترام

اندو بانگا کے مطابق رنجیت سنگھ نے جہاں جہاں بھی جنگی مہمیں بھیجیں، جس کو بھی ہرایا، اس کو راستے میں نہیں چھوڑا۔ رنجیت سنگھ کی طرف سے ہارے ہوئے بادشاہ کو حکومت کا حصہ بننے یا جاگیر کی پیشکش کی جاتی تھی۔مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان کے صوبیدار مظفر خان کو بھی یہی پیش کش کی تھی۔ ایسی پیشکش کرتے وقت مذہب کو کبھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔

کتاب 'ملٹری آفیرز آف مہاراجہ رنجیت سنگھ' میں مہاراجہ رنجیت کی طرف سے ایک ہی افسر کو دیئےگئے چار سو سے زیادہ احکامات کی تفیصل موجود ہے۔ اس کتاب کو اندو بانگا اور جے ایس گریول نے ادارت کی ہے۔ اس کتاب میں دیئے گئے احکامات کے ذکر کرتے ہوئے اندو بانگا کہتی ہیں:' مہاراجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے اپنے افسروں کو ہدایت دی جاتی تھی کہ فوجی مہم کے دوران عام لوگوں کو کوئی مشکل نہ ہو۔ کسانوں سے زبردستی کچھ نہ لیا جائے اور اگر لیا جائے تو اس کی پوری قیمت ادا کی جائے۔ ان احکامات سے پتا چلتا ہے کہ فوج کے لیے ساری عوام ایک برابر تھی۔ اندو بانگا کے مطابق سکھ صرف آبادی کا دس فیصد تھے اور زیادہ آبادی والے دوسرے مذاہب کو اگر سکھ راج قبول نہ ہوتا تو ان پر حکومت نہیں ہو سکتی تھی، اور اگر انھیں دبانے کی کوشش کی جاتی تو بغاوت کے بھی امکانات پیدا ہو سکتے تھے۔ ان کے مطابق اس بات کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ اس وقت کوئی بڑی بغاوت نہیں ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب سے لوگوں نے ہجرت نہیں کی بلکہ باہر سے آ کر لوگ پنجاب میں بسے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں غیر ملکی بھی کام کرتے تھے