تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption صدر ٹرمپ نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی رپورٹس کو 'قبل از وقت' یا 'نامکمل' قرار دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے انھیں امید ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داروں کے بارے میں رپورٹ منگل تک مکمل ہو جائے گی۔

جبکہ امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ابھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی کہ آیا سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟

صدر ٹرمپ نے کیلیفورنیا میں جنگل کی آگ سے ہونے والی تباہی کے جائزے کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے یہ بات بھی کہی۔

انھوں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی رپورٹس کو 'قبل از وقت' یا 'نامکمل' قرار دیا جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سعودی شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں حکام نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔

اس سے پہلے میڈیا میں آنے والی خبروں میں کہا جا رہا تھا کہ سی آئی اے کو لگتا ہے کہ اس قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔ جبکہ سعودی عرب نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے منسوب اس دعوے کو رد کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ہیتھر نورٹ کا کہنا تھا کہ اب بھی سعودی صحافی کے استنبول میں ہونے والے قتل سے متعلق لاتعداد سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ملے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Image caption سعودی حکومت کا کہنا تھا کہ اس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ملوث نہیں ہیں

امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس کا کچھ اندازہ جمال خاشقجی اور سعودی ولی عہد کے بھائی شہزادہ خالد کے درمیان ہونے والی گفتگو سے ہوتا ہے۔ انھوں نے مبینہ طور پر ولی عہد کے کہنے پر سعودی صحافی سے کہا کہ وہ استنبول میں سعودی سفارتخانے جائیں، جہاں انھیں بعد میں قتل کر دیا گیا۔

شہزادہ خالد نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ایسی کوئی گفتگو ہوئی ہے اور سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کا یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل غلط ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ سعودی ولی عہد کا قتل میں کوئی ہاتھ نہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق سی آئی اے نے جمال خاشقجی کے قتل سے قبل اور بعد میں کی جانے والی محمد بن سلمان کی فون کالز اور قتل کے بعد ترکی میں سعودی سفارت خانے میں سعودی ایجنٹس کی کالز کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کو گذشتہ ماہ ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا تھا اور سعودی حکومت کا کہنا تھا کہ اس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ملوث نہیں ہیں۔

مبینہ طور پر 15 سعودی ایجنٹس اکتوبر میں ایک سرکاری طیارے میں استنبول پہنچے تھے اور انھوں نے سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کا قتل ہے، جہاں وہ کچھ دستاویزات لینے آئے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ نے سی آئی اے کے حوالے سے کہا ہے کہ خالد بن سلمان نے جمال خاشقجی کو کہا تھا کہ وہ دستاویزات لینے کے لیے استنبول میں سعودی قونصل خانے جائیں اور انھیں یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ محفوظ رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Image caption دو اکتوبر کو استنبول میں جمال خاشقجی کو قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش اب تک نہیں ملی ہے

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا خالد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے حوالے سے بنائے گئے کسی منصوبے کا علم تھا یا نہیں لیکن امریکی انٹیلیجنس کے مطابق انھوں نے یہ فون کال اپنے بھائی کے کہنے پر ہی کی تھی۔

واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کی ترجمان فاطمہ بہیشن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خالد بن سلمان نے جمال خاشقجی سے فون پر گفتگو میں ترکی جانے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اسی حوالے سے لکھا ہے کہ سی آئی اے کو کئی ہفتوں سے یقین تھا کہ ولی عہد محمد بن سلمان جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہیں لیکن وہ یہ اس نتیجے پر پہنچنے پر ہچکچا رہے تھے کہ کیا واقعی ولی عہد نے قتل کا حکم دیا تھا۔

اخبار کے مطابق سی آئی اے نے اپنا تجزیہ ٹرمپ انتظامیہ اور قانون سازوں کو پیش کر دیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے سوچ میں اس وقت تبدیلی آئی جب نئی معلومات سامنے آئیں۔ ان میں وہ کال بھی شامل تھی جس میں ایجنٹوں کی ٹیم کا ایک رکن محمد بن سلمان کے ایک مشیر کو کال کر کے کہتا ہے کہ 'اپنے باس کو بتا دو' کہ مشن مکمل ہو چکا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق حکام نے تنبیہ کی ہے کہ نئی معلومات سعودی قونصل خانے میں ہونے والے قتل کے محمد بن سلمان کے ساتھ تعلق کا براہ راست ثبوت نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ دو اکتوبر کو استنبول میں جمال خاشقجی کو قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش اب تک نہیں ملی ہے۔

’سعودی حکومت کے سخت ناقد‘

خاشقجی سعودی حکمرانوں کے بڑے ناقدین میں سے ایک تھے۔ سعودی عرب کا موقف ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم ولی عہد محمد بن سلمان نے نہیں، بلکہ ایک سینئیر انٹیلی جنس اہلکار نے دیا تھا۔

سعودی عرب نے ان خبروں کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کسی امریکہ اہلکار کو بتایا تھا کہ جمال خاشقجی خطرناک اسلامی شدت پسند تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption دو اکتوبر کو استنبول میں جمال خاشقجی کو قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش اب تک نہیں ملی ہے۔

اس سے قبل مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے لیے سعودی عرب اور ترکی میں متعدد مقامات پر غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی گئی۔

جمال خاشقجی کے بیٹے صالح خاشقجی نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں سوگواران سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ مکہ المکرمہ اور مدینہ سمیت استنبول میں بھی جمال خاشقجی کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔

گذشتہ ماہ امریکہ اور شعودی عرب کی دوہری شہریت رکھنے والے صالح خاشقجی نے اپنے والد کے قتل کے بعد دارالحکومت ریاض میں بادشاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان دونوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

تاہم ان پر عائد سفری پابندی ہٹائے جانے کے بعد وہ امریکہ گئے تھے جہاں انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اپنے والد کو اپنے خاندان کے دیگر آنجہانی اراکین کی طرح مدینہ میں دفن کرنا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شدید صدمے میں ہیں اور انھیں یہ غم ہے کہ وہ جمال خاشقجی کو الوداع نہیں کہہ سکیں جس کی وجہ سے ان کی موت کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔

جمال خاشقجی کی غائبانہ نمازِ جنازہ واشنگٹن، لندن، اور پیرس میں بھی پڑھائی جائے گی اور ان کے خاندان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چار روزہ سوگ منایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption جمعے کے روز ہی امریکی میڈیا میں کہا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اندازوں کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا۔
تصویر کے کاپی رائٹ AFP Image caption جمال خاشقجی کی غائبانہ نمازِ جنازہ مکہ، واشنگٹن، لندن، اور پیرس میں بھی پڑھائی جائے گی سعودی تحقیقات کا نتیجہ

اس سے قبل سعودی عرب کے سرکاری وکیلِ استغاثہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم ولی عہد محمد بن سلمان نے نہیں، بلکہ ایک سینئیر انٹیلیجنس اہلکار نے دیا تھا۔

ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں خفیہ ایجنٹس کے ساتھ ہاتھا پائی کے بعد ایک جان لیوا انجیکشن دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے جسم کے ٹکڑے کیے گئے، اور انہیں قونصل خانے سے نکلا گیا۔

وکیلِ استغاثہ نے اس سلسلے میں 11 افراد پر فرد جرم عائد کی ہے جن میں سے 5 کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی ہے۔ ان کے مقدمات عدالت کے حوالے کیے گئے ہیں، جبکہ اسی سلسلے میں 10 مزید افراد کے بارے میں تفتیش جاری ہے۔

جمال خاشقجی کا ’قتل‘ اور علاقائی سیاستا

سفری پابندی کا خاتمہ، جمال خاشقجی کے بیٹے امریکہ پہنچ گئے

خاشقجی خاندان: سعودی معاشرے میں جدّت کا علمبردار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption صالح خاشقجی نے اپنے والد کے قتل کے بعد دارالحکومت ریاض میں بادشاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان دونوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ امریکی پابندیاں

دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو ان 17 سعودی باشندوں پر معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں جو مبینہ طور پر صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل میں ملوث ہیں۔

جن افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں سعود القحطانی بھی شامل ہیں جو سعودی فرمانروہ محمد بن سلمان کے سابق مشیر ہیں۔

امریکہ محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ان افراد میں ماہر متعب بھی ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر آپریشن پر عملدرآمد کیا۔ انہی افراد میں استنبول میں سعودی قونصل جنرل بھی شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے قتل میں یہ پابندیاں اہم قدم ہیں۔

ریاض میں ہونے والی پریس کانفرنس میں نائب وکیل استغاثہ شالان بن راجح شالان نے ملزمان کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ تفتیش سے یہ سامنے آیا ہے کہ ’قتل کا حکم دینے والا مذاکراتی ٹیم کا سربراہ تھا‘ جسے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ترکی بھیجا گیا تھا کہ وہ خاشقجی کو اپنی خود ساختہ ہجرت ختم کرکے سعودی عرب واپس آنا پر آمادہ کر سکیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس بارے میں ولی عہد کچھ نہیں جانتے تھے۔‘

شہزادہ محمد بن سلمان کے ناقدین کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ انہیں اس آپریشن کے بارے میں کچھ پتہ نہ ہو۔