تصویر کے کاپی رائٹ EPA

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث بڑھتی اموات کے دوران عالمی ادارہ خوارک نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا کو ’بھوک کی عالمی وبا‘ کا ممکنہ سامنا ہے کیونکہ رواں برس خوراک کی قلت کا شکار افراد کی تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارہ خوارک کے مطابق سنہ 2019 کے اختتام پر دنیا بھر میں ساڑھے 13 کروڑ افراد کو ’شدید بھوک‘ کا سامنا تھا اور اب چونکہ دنیا کے بیشتر ممالک کو لاک ڈاؤن کا سامنا ہے تو یہ تعداد رواں برس بڑھ کر ساڑھے 26 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے نے کہا ہے کہ ’کورونا وائرس کے مسئلے کے سر اٹھانے سے بھی قبل میں متعدد وجوہات کی بنیاد پر کہہ رہا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سنہ 2020 ایسا سال ہو گا جس میں بدترین انسانیت سوز بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

سنہ 2019 میں عالمی ادارہ خوراک کو ملنے والی امداد کا حجم 8.3 ارب ڈالر تھا۔ رواں برس اس ادارے کو اپنا کام چلانے کے لیے 10 سے 12 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

یمن
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یمن میں جنگ کی ابتدا سے قبل بھی یہ ملک عرب دنیا کا سب سے غریب ترین ملک تھا۔

مگر سنہ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں نے ملک میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو وسیع تر کر دیا ہے۔

عالمی ادارہ خوارک کے چیف اکانومسٹ عارف حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جیسے جیسے تنازع طویل ہو رہا ہے زیادہ سے زیادہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ سنہ 2016 میں ہم یمن میں 30 سے 40 لاکھ افراد کو امداد فراہم کر رہے تھے۔ اب یہ تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

قحط زدہ زندگی کے روپ

وہ پانچ وبائیں جنھوں نے دنیا بدل کر رکھ دی

’مزید دس لاکھ یمنی بچے قحط کے خطرے سے دوچار‘

عالمی ادارہ خوارک کے مطابق صورتحال مزید گھمبیر اس وقت ہوئی جب کئی ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے خدشات کے پیش نظر حوثی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں امداد پہنچانے کا سلسلہ بند کرنا پڑا۔

ان ممالک کا کہنا تھا کہ حوثی اپنے علاقوں میں امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈال رہے تھے۔

رواں ماہ کے آغاز پر یمن میں کورونا وائرس کا پہلا مصدقہ کیس سامنے آیا تھا۔ امداد فراہم کرنے والے اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ جلد ہی یہ وبا یمن کے کمزور صحت کے نظام پر حاوی ہو جائے گی۔

جمہوریہ کانگو
تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کانگو کے مختلف علاقے گذشتہ 25 برسوں سے مسلح تصادم کی زد میں ہیں اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہاں دنیا کا دوسرا بڑا بھوک کا بحران درپیش ہے۔

کانگو کے 15 فیصد عوام کو ’کھانے کے حوالے سے شدید ترین عدم تحفظ کا شکار‘ افراد کی کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کا شمار دنیا بھر کے ان تین کروڑ افراد میں ہوتا ہے جو براہ راست جنگی زون میں بستے ہیں اور ان کا مکمل دارومدار امداد پر ہوتا ہے۔

عارف حسین کے مطابق ان افراد کو اگلے تین ماہ کے لیے خوراک کی ترسیل کا بندوبست کرنے کے لیے کم از کم دو ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ افراد ہیں جو بری طرح متاثر ہیں اور اب (کورونا کے بعد) یہ مزید مشکلات کا شکار ہیں۔‘

کانگو میں ان افراد کے علاوہ پڑوسی ممالک سے آئے 50 لاکھ پناہ گزین اور پانچ لاکھ مہاجرین بھی موجود ہیں۔

جنگی زدہ علاقوں میں رہنے والے ہر شخص کو درپیش خطرات کے علاوہ، کورونا وائرس پھیلنے کے دوران بے گھر افراد اس سے بھی زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں کیونکہ ان میں اکثر بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کرنے کے لیے ضروری حفظان صحت کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے متنبہ کیا تھا کہ کانگو میں جاری تصادم کورونا وائرس کی روک تھام کی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے۔ کورونا کی وبا اب تک کانگو کے دارالحکومت کو متاثر کر چکا ہے۔

وینزویلا
تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس فہرست میں شامل دیگر ممالک کے برعکس وینزویلا میں بھوک کا مسئلہ کسی جنگ یا ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ معاشی مشکلات کی وجہ سے ہے۔

اگرچہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں لیکن ملک میں شرح مہنگائی گذشتہ سال جنوری میں 200 فیصد تک پہنچ گئی تھی جس کے بعد ملک کی ایک تہائی آبادی کو بیرونی امداد کی ضرورت پڑی۔

عالمی ادارہ خوراک کے مطابق صحت کے کارکنوں کے ملک سے بڑے پیمانے پر نکل جانے کے بعد ان مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

اور مسائل کی فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی۔ وینزویلا کی 15 فیصد آبادی یعنی 48 لاکھ افراد نے گذشتہ چند برسوں میں اپنا ملک چھوڑ کر پڑوسی ممالک کی طرف ہجرت کی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ پڑوسی ممالک میں خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

جنوبی سوڈان
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنوبی سوڈان سنہ 2011 میں اس وقت معرض وجود میں آیا تھا جب اس نے اپنے شمالی ہمسائے سے آزادی حاصل کی۔

آزادی حاصل کرنے کا ایک مقصد یہ تھا کہ ملک میں برسوں سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ کیا جا سکے مگر آزادی حاصل کرنے کے دو ہی برس بعد جنوبی سوڈان سخت مسلح تصادم کا شکار ہو گیا۔

عالمی ادارہ خوارک نے متنبہ کیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں بھوک اور غذائیت کی کمی سنہ 2011 سے اپنی انتہائی سطح پر ہے اور ملک کی لگ بھگ 60 فیصد آبادی ہر روز کھانا ڈھونڈنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

صورتحال نے اس وقت بدترین رخ اختیار کیا جب رواں برس مشرقی افریقہ میں فصلوں کو تباہ کرنے کے بعد ٹڈی دل نے جنوبی سوڈان کا رخ کیا۔

عارف حسین کے مطابق ’اگر یہاں کورونا وائرس مسئلہ نہیں بھی ہے تو صحرائی ٹڈی ایک بہت بڑی کہانی ہے۔‘

جنوبی سوڈان کا بڑا دارومدار تیل پر ہے اور تیل کی قیمتیں کم ہونے کے بعد یہ ملک شدید طرح سے متاثر ہو گا۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق جنوبی سوڈان میں کورونا وائرس کے صرف چار کیس ہیں۔

افغانستان
تصویر کے کاپی رائٹ EPA

افغانستان ایک اور جنگ زدہ ملک ہے جو گذشتہ دو دہائیوں سے جنگ کی زد میں ہے۔

سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے 18 سال بعد اب یہاں کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے رہ رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

افغان حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق یہاں کورونا کے ایک ہزار سے زائد مصدقہ متاثرین موجود ہیں۔

یہ تعداد کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دہائیوں سے جاری تصادم کے نتیجے میں صحت کا نظام بہت کمزور ہے اور ٹیسٹنگ کی صلاحیت کی بہت زیادہ کمی ہے۔

یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ وبا سے شدید متاثر ملک ایران سے ڈیڑھ لاکھ افراد افغانی شہریوں کے حال ہی میں ملک واپس آنے کے بعد یہاں متاثرین کی تعداد بتائی گئی تعداد سے کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے علاوہ بہت سے افغانی حال ہی میں پاکستان سے بھی واپس اپنے ملک لوٹے ہیں۔

13 کروڑ مزید۔۔۔

جنگ زدہ اور ماحولیاتی اور معاشی مشکلات کا شکار ممالک کے علاوہ ایسے بہت سے دیگر غریب اور نیم متوسط ممالک بھی ہیں جو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث متاثر ہوں گے۔

کورونا کا مسئلہ مختلف نوعیت کے معاشی دباؤ سے اور زیادہ خراب ہو گا۔ ایسے ممالک میں ترسیلات زر یا بیرون ملک رشتہ داروں کی جانب سے بھجوائی جانے والی رقوم کا گراف بھی گِر جائے گا۔

عارف حسین کہتے ہیں کہ ’سب سے اہم چیز یہ ہے کہ (کورونا کا) سستا علاج پوری دنیا میں ہر شخص کو دستیاب ہونا چاہیے۔ مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا اس وقت تک ہمیں لوگوں کی زندگیاں اور روزگار بچانے کے لیے سب کچھ کرنا چاہیے۔‘